آرٹیکل: کنواں اور صحرا








آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں








إِنَّا لِلّهِ یعنی ہم اللہ سے ہیں گویا یہ انسان بلکہ تمام موجودات کی عظمت اور ان کے شرف کا بیان ہے کہ سب کا خالق اور رب اللہ تبارک و تعالیٰ ہے



جس کی خالقیت ہر عیب و نقص سے پاک اور کمال پر مبنی ہے



انسانیت کا کمال اخلاق اللہ سے مزین ہونے میں ہے



اپنی زندگی میں ہمیں جو عبودیت کی دعوت دی گی ہے اسکا اول و آخر مقصد یہی ہےکہ ہم اپنی حقیقت کو اللہ کے حضور اور اس کے قرب میں اپنے ارادہ و اختیار سے پالیں

اگر کوئ یہ چاہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کے ذریعہ خالق کی رضا حاصل کرے تو اس کا یقینی راستہ یہی ہے کہ اپنے جیسے انسانوں کو معنوی کمال کی جانب بلایا اور اس راستے پر چلنے میں مدد فراہم کی جائے اگر کوئ یہ چاہے کہ ایک انسان کو نجات دے کر تمام انسانیت کا نجات دہندہ بن سکے ٹو ضروری ہے کہ مردہ دلوں کو زندہ کیا جائے اور ان میں نور ہدایت فراہم کیا جائے ورنہ انسان کی مادی،جمادی،نباتی یا حیوانی زندگی کو لذت پرستی کے قابل بناتے رہنا تو زندگی سے نہیں موت سے ہمکنار کرنا ہے.




Posted on Feb 22, 17 | 3:36 am